اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مارچ کے موقع پر اسلام آباد میں مارچز کی متوقع آمد کے پیش نظر زیرو پوائنٹ پر کنٹینرزرکھ دیے گئے ہیں۔اورزیروپوائنٹ سےصرف ایک گاڑی گزرنےکاراستہ چھوڑدیاگیا ہے۔پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جبکہ دونوں مارچ ابھی راستے میں ہیں۔ادھر ایک امریکی اخبار’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے پاکستان کی سیاسی صورت حال تبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ عمران خان ہزاروں مظاہرین کے ساتھ اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ بڑھتے تصادم نے فوج کے سیاسی کردار کی تجدید کردی ہے۔جس سے جوہری ہتھیاروں سے مسلح ملک کے جمہوری اداروں کی مضبوطی پرکچھ شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔سیاست کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے فوج مظاہرین اور حکومت کے درمیان ثالثی کے کردار ادا کر رہی ہے۔ خاص طور پر کچھ سیاستدان آرمی چیف کے درمیان ایک روز قبل جنرل راحیل شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، اور شہباز شریف کی ملاقات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔اس ملاقات کے بعدوزیر داخلہ نے کہا کہ اس پورے معاملے پر پاکستان کی مسلح افواج ملوث نہیں ہیں ۔اس سیاسی تنازع کے حل کے لئے مظاہرین بھی فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
عمران خان قبل از وقت انتخابات اور وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن نوازشریف کوپارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے تجزیہ کار کہتے ہیں یہ صرف فوجی مداخلت سے ہی ہو سکتا ہے۔ حکومت عمران خان اور طاہر القادری کی طرف سے خطرات سے نمٹنے کی کوشش میں ہے اور ، فوج کے پاس سسٹمیٹک ریفری کا کردار آگیا ہے۔
.......
/169